
شیشہ کور – داستانِ حیات قاضی منیب اللہ – خاطرات: امیرجان حقانی – اسسٹنٹ پروفیسر: پوسٹ گریجویٹ کالج چلاس دیامر
کتاب ’’شیشہ کور‘‘ دراصل حضرت مولانا قاضی منیب اللہ دامت برکاتہم کی زندگی کی کہانی ہے، جسے ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالخالق ہمدرد صاحب حفظہ اللہ نے شینا زبان میں دو طویل نشستوں پر مشتمل انٹرویو کے بعد اردو میں منتقل کیا ہے۔ اس کتاب میں قاضی منیب اللہ دام ظلہ کی شخصیت، علمی جدوجہد، دیہاتی پس منظر، اور دین کے لیے کی گئی انتھک خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ہمدرد صاحب نے اس بات کی بھرپور کوشش کی ہے کہ قاضی صاحب کے بیان کردہ واقعات کو عین اُسی انداز میں پیش کریں جس طرح قاضی صاحب نے انہیں بیان کیا، اور یوں یہ داستان حیات، قاری کو براہ راست قاضی صاحب کی زندگی اور سوچ کے قریب لے جاتی ہے۔
کتاب کا نام اور وجہ تسمیہ
ہمدرد صاحب لکھتے ہیں:
“آپ کے علم، حلم، بردباری، برداشت اور ثابت قدمی کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا لگا کہ آپ ایک زندہ پہاڑ ہیں جس کو زمانے کے طوفان کچھ نہیں کہہ سکتے، جس کو آندھیاں اپنی جگہ سے ہلانیسے عاجز ہیں اور جو اپنے دامن میں آنیوالوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔
اس لحاظ سے آپ کی اس سوانح کو بیان کرنے کے لئے میرے خیال میں ’’شیشہ کور‘‘ سے اچھا کوئی لفظ نہیں۔ ’’شیشہ کور‘‘ پھولاوئی کی پشت پر کھڑے اس پہاڑ کا نام ہے جس پر دھوپ میں نگاہ نہیں ٹکتی اور اس کی چمک کی وجہ سیآنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ حضرت قاضی صاحب کی شخصیت بھی اپنے ظاہری اور معنوی حسن میں اس پہاڑ سے کم نہیں۔
اک نرالی بہار ہے قاضی
نابغہء روزگار ہے قاضی
قدر جان اس کی اے ہمدرد
نعمت پروردگار ہے قاضی” (شیشہ کور)
ڈاکٹر عبدالخالق ہمدرد کا مختصر تعارف
مولانا ڈاکٹر عبد الخالق ہمدرد کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں پھولاوئی سے ہے جہاں وہ 1974ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی، پھر 1983ء میں ایبٹ آباد آکر پنجم سے ایف ایس سی تک عصری تعلیم حاصل کی۔ 1991ء میں ٹی آئی پی میں اپرینٹس بنے، مگر جلد ہی مستعفی ہوکر کراچی چلے گئے اور دار العلوم کراچی اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ درالعلوم اور بنوری ٹاؤن میں طالب علمی کے دروان عربی ادب سے خوب وابستگی اختیار کی اور عرب اساتذہ سے عربیت میں بھرپور استفادہ کیا۔
2000ء میں ادارہ علوم اسلامی اسلام آباد میں تدریسی کیریئر کا آغاز کیا اور 2006ء تک تدریس کے ساتھ نائب مدیر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ اس دوران عصری تعلیم میں بھی پیش رفت کی۔ انہوں نے دوران ملازمت اعلی تعلیم بھی حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل (عربی) کے بعد 2024ء میں نمل یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی کی۔ یوں ہمارے دوست مولانا کیساتھ ڈاکٹر بھی بن گئے۔
2006ء سے سعودی اور دیگر عرب سفارت خانوں میں بطور مترجم اور سیاسی تجزیہ نگار خدمات انجام دیتے آرہے ہیں۔ پروفشنل ذمہ داریوں کیساتھ کئی مدارس میں تدریس کرتے رہے ہیں اور ایک عرصہ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں بھی تدریس کیا، اور امور کیساتھ ترجمے میں مہارت رکھتے ہیں اور مختلف زبانوں جیسے عربی، اردو، انگریزی، ہندکو، پشتو، اور فارسی سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ان کے کئی عربی مضامین، عربی رسائل میں شائع ہوئے اور بیس سے زائد کتابوں کا عربی سے اردو ترجمہ بھی کیا۔ ایک طویل عرصہ ایک عربی اخبار کے پاکستان نے بطور نمائندہ رپورٹنگ اور کالم نگاری بھی کی ہے۔
انہوں نے ’’دروس الفقہ‘‘ اور ’’زمیں کے تارے‘‘ جیسی کتب بھی تحریر کی ہیں اور سفری و روزنامچے لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ ان کے ملک بھر کے سفرنامے شائع ہوچکے ہیں۔ کچھ سفرناموں میں راقم کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کا ملائشیا کا مفصل سفرنامہ کئی جگہوں میں قسط وار شائع ہوا ہے جو بہت دلچسپ ہے۔
کتاب “شیشہ کور” کے آغاز میں ’’اپنی بات‘‘ کے عنوان سے مترجم / راوی نے ایک جامع تعارفی تمہید لکھی ہے جو قاری کو کتاب کی روح اور قاضی صاحب کے نظریات اور مترجم کے اپنے احوال و خیال سے بھی روشناس کراتی ہے۔
یہ ملاقات 2008 میں ہوئی تھی اور انہوں نے انٹرویوز محفوظ کیے تھے اور اب ہمدرد صاحب اس کتاب کو پبلش کر رہے ہیں، انہوں نے راقم کو حکم دیا کہ اس کتاب پر اپنے خیالات قلم بند کروں تو راقم نے ایک تعارفی اور تاثراتی تبصرہ لکھنے کی جسارت کی ہے جس میں کتاب کا اجمالی جائزہ و تعارف کیساتھ ہمدرد جی کا تعارف اور اسلوب تحریر بھی آگیا ہے۔
ہمدرد جی کا اسلوب بیان اور تحریری مہارت
مولانا ڈاکٹر عبد الخالق ہمدرد کا اسلوبِ بیان اور تحریری مہارت چند نمایاں خصوصیات کی حامل ہیں، جو ان کی گہری علمی بصیرت اور زبان و ادب پر دسترس کو ظاہر کرتی ہیں:
سادہ اور مؤثر انداز:
ان کا اسلوب سادہ، رواں اور عام فہم ہے، جس کی بدولت قاری ان کی تحریر میں جلد جذب ہوجاتا ہے۔ پیچیدہ موضوعات کو آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کرنا ان کا خاصا ہے۔
علمی اور تحقیقی بنیاد:
ان کی تحریروں میں گہری علمی اور تحقیقی رنگ جھلکتا ہے۔ خواہ دینی مضامین ہوں یا ادبی موضوعات، وہ ہمیشہ ٹھوس علمی حوالوں اور تاریخی شواہد کے ساتھ لکھتے ہیں، جس سے قاری ان کی تحریر کو قابلِ اعتماد پاتا ہے۔
زبانوں پر عبور:
اردو، عربی، انگریزی، اور دیگر زبانوں پر عبور ان کی تحریروں میں بین الثقافتی وسعت پیدا کرتا ہے۔ مختلف زبانوں اور موضوعات کا بہترین امتزاج ان کی تحریر میں جان ڈال دیتا ہے اور یہ چیز ان کی ترجمے کی مہارت میں بھی نمایاں ہے۔ زبانوں پر مہارت کی بنیاد پر انہیں شیخ اللسان بھی کہا جاسکتا ہے۔
دلچسپ اور مربوط بیان:
ان کے سفرنامے، رپوتاژ اور روزنامچے، فیس بک پوسٹیں اور مضامین و کالمز میں دلچسپی اور جاذبیت ہوتی ہے، جس سے قاری ان کے تجربات اور مشاہدات کو خود محسوس کرتا ہے۔ وہ ذاتی تجربات کو دلچسپ پیرائے میں بیان کرتے ہیں، جو ہر عمر کے قاری کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔
وسیع موضوعات پر دسترس:
ان کی تصانیف، خاص طور پر ’’دروس الفقہ‘‘ اور ’’زمیں کے تارے‘‘، مختلف النوع تراجم وغیرہ کتب وسیع موضوعات کو شامل کرتی ہیں۔ فقہ سے لے کر ادبیات اور سفرنامے تک، وہ مختلف موضوعات پر گرفت رکھتے ہیں، جس سے ان کی کثیر الجہتی صلاحیتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
نثر میں روانی اور تخلیقیت:
ان کا قلم رواں اور تخلیقی انداز اپناتا ہے، جو ان کے لکھنے کا شوق اور کمال فن کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو، عربی اور انگریزی جس انداز میں روانی سے لکھتے ہیں اس سے زیادہ خوبصورت بول بھی لیتے ہیں۔ ہمدرد صاحب کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں مترجم کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں جس سے ان کی قوت گویائی و ترجمانی اور پروفیشنلزم کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
“شیشہ کور” کتاب کے اہم موضوعات
کتابچہ کی صورت میں یہ کتاب قاضی منیب اللہ دام ظلہ کے نام و نسب، دیہاتی پس منظر، اور ابتدائی تعلیم و تربیت کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ کتاب میں قاضی صاحب نے اس دور کے چلاس اور کوہستان کے مضافات کے دینی درسگاہوں کے طلبہ کے مساجد و مدارس میں جمعرات کو منعقد ہونے والی رقص و گانے کی محفلوں کا ذکر بھی کیا ہے، جسے دیامر میں “طالیبانو ہتٹن” کہا جاتا ہے۔ آج کل بھی کوہستان کے بعض علاقوں میں یہ روایت موجود ہے۔ اس کے علاوہ، ان محفلوں کے انعقاد، ان کی روایات اور دین سے متعلق تربیتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اساتذہ اور علاقائی صورتحال اور رسوم و رواج کا ذکر بھی ملتا ہے۔
قاضی منیب اللہ نے اپنی ابتدائی تعلیم چلاس، بٹوگاہ، اور نیاٹ ک مختلف درسگاہوں اور اساتذہ سے حاصل کی۔ انہوں نے 1960 میں دورہ حدیث کی تکمیل کی اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان سے فہم قرآن حاصل کیا اور قرآن کریم پر دسترس حاصل کی۔ تعلیم کے پورے دورانیہ میں انہیں بے شمار مشکلات اور تکالیف کا سامنا رہا، جن کا تذکرہ کتاب میں موجود ہے اور جس سے قاری کو اُس دور کی تعلیمی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اور حوصلہ بھی ملتا ہے۔اور اس دور کے طالبان علوم دینیہ کا انداز بھی سمجھ آتا ہے۔ اور بالخصوص چلاس اور مضافات میں دینی طلبہ کے قیام و طعام یعنی وظیفہ جمع کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ تب شاید گھروں سے طلبہ کے لئے کھانا جمع کرنا معیوب نہیں تھا، لوگ بہت اچھے تھے، علماء و طلبہ کے قدردان تھے اور مخلص بھی، مگر اب یہ انتہائی قبیح عمل لگتا ہے۔ آج کل بھی چند علاقوں میں “وظیفہ” کی یہ شکل موجود ہے۔
قاضی منیب اللہ کی دعوتی سرگرمیاں:
قاضی منیب اللہ کی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز، ابتدائی طور پر پھولاوائی رہا، جہاں انہوں نے توحید کی اہمیت کو عام کیا اور شرک و بدعت کا رد کیا۔ پھولاوائی میں نماز جمعہ کا آغاز بھی انہوں نے کیا جس کے لئے انہیں علمی و عملی اعتبار سے خوب پاپڑ بیلنے پڑے۔
ان علاقو میں قبروں کی زیارت اور دیگر خرافات کا رد کیا اور قرآن و حدیث کے ذریعے غلط عقائد اور رسوم کو چیلنج کیا۔ قاضی صاحب کی شاعری بھی ان کی دعوت و اصلاح کے سفر کا حصہ رہی اور یہ شاعری شینا، اردو، پنجابی، اور پشتو زبانوں میں دینی موضوعات پر مشتمل ہے۔ بعد میں پھولاوائی سے وادی نیلم، کشمیر اور ملک بھر میں ان کا کام و نام مشہور ہوا۔ وہ کشمیر کے انتہائی موثر عالم دین ہیں۔ مجھے بھی ان سے ملنے کی خواہش ہے۔ بنیادی طور پر قاضی منیب اللہ اور برادرم ہمدرد کا تعلق بھی دیامر سے ہے اور ہم میں یہ علاقائی یگانگت بھی ہے۔ ان کی خاندان اب بھی تین علاقوں یعنی دیامر نیاٹ، استور اور پھولاؤائی میں منقسم ہے۔
قاضی منیب اللہ کی شاعری کا آغاز:
قاضی منیب اللہ کا کہنا ہے:
“میری شاعری کا آغاز فراغت کے بعد اس تبلیغی کام کے دوران ہوا۔ قبل ازیں میں ایک لفظ شعر کا نہ کہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فراغت کے بعد میرا شرح صدر فرمایا اور میرے دل میں غیبی الہام ہو گیا۔ یہ الہام شعر کی صورت میں تھا۔ سب نے اس کو حفظ کر لیا۔ شادی میں، غمی میں، ہر جگہ ان شعروں کا چرچا ہوگیا اور ایک انقلاب برپا ہوگیا۔
زبانیں اور کلام:
مجھے(قاضی منیب اللہ) اپنی زبان شنیا، اس کے بعد اردو، فارسی اور ہندکو پر عبور ہے۔ عربی میں چونکہ تکلم نہیں اس لئے طلاقت سے بولنے کی تو نہیں لیکن سمجھتا ہوں۔ کلام بھی کئی زبانوں میں ہے، نمبر ایک اردو میں، شنیا دو، ہندکو تین، پشتو چار اور فارسی پانچ اور پنجابی بھی۔ کلام تقریباً سب زبانوں میں برابر برابر ہے، گنا نہیں۔” (شیشہ کور)
یعنی قاضی منیب اللہ صاحب، ہمدرد سے بھی بڑے شیخ اللسان نکلے۔ مجھے تو یہی لگتا ہے کہ پھولاؤائی کے پانی اور زمین میں” کثرت لسانی” کی تاثیر موجود ہے۔ شاید کثرت زواجی بھی ہو۔
قاضی کا شینا کلام:
شرک تھونی نوم بڑو پیرئی گینیت
نے نئی عملو کتا ب تفسیرے گینیت
(شرک کرنے کے لئے تم نے بڑے پیر کا نام لیا، یہ اعمال کی تفسیر کی نئی کتاب لے لی)
ان کے اعمال کو تو نہیں دیکھتے مگر شرک کرتے ہیں
’’یا بڑو پیر دستگیر، یا بڑو پیر دستگیر‘‘۔ (اے بڑے پیر، دست گیر، اے بڑے پیر، دست گیر)(ماخوذ شیشہ کور)
قبروں پر حاضری اور بونیر بابا پر قاضی منیب اللہ کے اشعار
قاضی صاحب فرماتے ہیں:
“اس زمانے میں بزرگوں کی قبروں اور زیارتوں پر جانے کو حج کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اس کو بہت ضروری سمجھتے تھے۔ جو بونیر بابا کی زیارت سے واپس آتا تھا، اسے حاجی کی نظر سے دیکھا جاتا تھا کہ یہ بونیر سے ہو کر آیا ہے۔ حضرت شیخ القرآن رحمہ اللہ کے درس توحید کی برکت سے نور توحید دل میں اترا اور بونیر بابا کے بارے میں اپنی زبان میں شعر کہے:
روزی اولاد لوکھونی بونیرے ڑے گئے
تومو ربئے پونے پھت تھے دور دنیرو ڑے گئے
تومی حاجتے لوکھونی کاکا وری گئے
ایں شرک تھونیڑ بونیر بابا وری گئے
بونیر باباربڑے محتاجے ہنو
ایں محتاجئ کوم تماموڑے ساجی ہنو
توحیدئی مسئلہ مہتم بالشان ہنی
ایں توحیدے مجا مرکز قرآنئی ہنی
توحیدئی اثباتیکیریا دلیلی ہنے
ایں دلیلئے منکری لا بڑے ذلیلی ہنے
ترجمہ
(روزی اور اولاد مانگنے کے لئے بونیر گئے
اپنے رب کا رستہ چھوڑ کر دور پہاڑ کی چوٹیوں پر گئے
اپنی حاجتیں مانگنے کے لئے ’’کاکا صاحب‘‘ کی جانب گئے
یہ شرک کرنے کے لئے بونیر بابا کی جانب گئے
بونیر بابا رب کے محتاج ہیں
اور یہ احتیاج سب میں مشترک ہے
مسئلہء توحید مہتم بالشان ہے
اسی توحید میں مرکز قرآن ہے
توحید کے اثبات کے لئے بڑے بڑے دلائل ہیں
ان دلائل کے منکر بڑے ذلیل ہیں) (شیشہ کور)
خواتین کی تعلیم و تربیت اور سماجی خدمات
قاضی منیب اللہ نے پھولاوائی میں خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے بھی اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بالا سیری اور پائین سیری میں خواتین کے لیے دروس و مواعظ کا آغاز کیا اور قرآن و حدیث کی تعلیم کو اپنی شاعری کے ذریعے بھی پھیلایا۔ مردوں کے لیے جمعۃ المبارک کے مواعظ و خطبات کو جاری و ساری رکھا۔
سیاست میں کردار
قاضی صاحب نے سیاسی طور پر مسلم کانفرنس اور سردار عبدالقیوم کا ساتھ دیا، مگر کبھی سیاسی چپقلشوں اور تعصبات کا شکار نہ ہوئے۔ عملی سیاست میں انہوں نے علاقے کے قاضی، زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین، اور یونین کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے رفاہی اور فلاحی کام کیے۔ ان کے کردار اور خدمات کا تذکرہ کتاب میں نمایاں ہے۔ یہ تمام عہدے انہیں بلا مقابلہ ملے، جو ان پر عوام اور خواص کے اعتماد کی دلیل ہے۔
کتاب کا اسلوب اور طرز بیان
ہمدرد صاحب نے اس داستان(شیشہ کور) کو اردو میں انتہائی سادہ اور دلنشیں انداز میں منتقل کیا ہے۔ ان کا اسلوب رواں اور پرکشش ہے، جو قاری کو اُس دور کے حالات کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کتاب میں جابجا قاضی صاحب کی شاعری موجود ہے، جس سے ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا اظہار ہوتا ہے اور یہ قاری کو قاضی صاحب کی فکری و دینی سوچ سے قریب تر لے جاتی ہے۔ اور ان کا مسلک و منہج سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
حاصل مطالعہ
یہ کتاب طلبہ اور علماء کے لیے خاص طور پر مفید ہے، کیونکہ یہ انہیں دینی تعلیم و خدمات کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت فراہم کرتی ہے۔ قاضی منیب اللہ دامت فیوضہم کی زندگی کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے ایک شخص اپنی دینداری، استقامت، اور خلوص سے سماج میں اصلاحات لا سکتا ہے۔
کتاب ’’شیشہ کور‘‘، دراصل ایک ایسی داستان حیات ہے جو دین، دعوت، اصلاح، اور کردار کی عظمت کا بہترین نمونہ ہے۔ یوں سمجھیں کہ یہ ایک خود نوشت، بلکہ “خود گفت” آپ بیتی ہے۔
ہمدرد صاحب نے اسے شینا سے اردو میں منتقل کر کے ایک قیمتی علمی اثاثہ فراہم کیا ہے۔ قاضی منیب اللہ مدظلہ کی حیات و خدمات سے استفادہ کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت مفید ہے اور یہ ہماری نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے۔
میری نوجوان علماء و فضلاء سے گزارش ہے کہ اس کا ایک دفعہ مطالعہ ضرور کریں تاکہ آپ کو دیہاتوں اور مشکلات میں کام کرنے کا اندازہ بھی ہوجائے گا اور آپ کو بھرپور حوصلہ و ہمت بھی ملے گی۔
نوٹ: یہ تحریر بطور مقدمہ کتاب، شیشہ کور میں شامل ہے۔
(امیرجان حقانی، حال پڑی بنگلہ، گلگت: 10 نومبر 2024)
Post Views: 80